Via Insaf Blogs
سیاست میں گالم گلوچ کو پی ٹی آئی سے منسوب کرنے والے یا تو جاہل ہیں یا بغض عمران میں مبتلا ہیں۔ نوجوان سیاسی ورکر کا سیاسی شعور صرف پانچ سات سال یا زیادہ سے زیادہ دس سال پرانا ہے اور سیاست کی سمجھ بوجھ فیس بک اور ٹاک شو تک محدود ہے۔ جب وہ موجودہ سیاست میں گالم گلوچ کا بانی تحریک انصاف کو کہتے ہیں تو اصل میں وہ اپنی لاعلمی اور جہالت کا اعتراف کرتے ہیں۔ یا پھر سب کچھ جانتے ہوئے بغض عمران میں منافقت کا سہارا لیتے ہیں۔ میں اکثر انہیں لنڈے کے دانشور کہتا ہوں۔
یہ محدود علم کے ماہر لنڈے کے دانشور کیا 88 سے لیکر 96 تک کی الیکشن مہم کے بارے نہیں جانتے یا جان بوجھ کر زبانوں کو تالے لگ جاتے ہیں۔ پاکستانی سیاست اپنی تمام تر گندگی کے باوجود مخالفین کیلے قدرے مہذب انداز رکھتی تھی۔ پھر سیاست میں نواز شریف کا ظہور ہوا۔ یہ صاحب جب تک روحانی ابو جان کے زیر سایہ رہے مہذب رہے۔ ابو جان کے جاتے ہی آزادی ملی تو پہلے ہی الیکشن میں بے نظیر پر شرمناک زاتی حملے کیے۔ یہیں بس نا کیا بلکہ حسین حقانی کی مدد سے بے نظیر کی شرمناک تصویریں چھپوا کر جہازوں سے پورے پنجاب میں پھینکی گئی۔ نواز شریف کی طرف سے 90 کے الیکشن میں لاہور اور فیصل آباد کی گلیوں میں بینظیرکے بارے جو گندے نعرے لگوائے جاتے تھے مجھے آج تک یاد ہے۔
الطاف حسین سے تھوڑا اختلاف ہوا تو اس کی اور سرکردہ لیڈروں کی زاتی زندگیوں کے بارے پنجاب کے اخباروں میں پیسے دے کر خبریں لگوائیں۔ قاضی حسین احمد کو استعمال کیا اور پھر سڑکوں پر پولیس سے لاٹھیاں برسائیں۔ پہلے فضل الرحمان کو استعمال کیا اور پھر خود اخبارات میں مسٹر ڈیزل کی خبریں لگوائیں۔ عمران سیاست میں آیا تو عمران کی بیوی پر ٹائلیں چوری کا مقدمہ بنوایا۔ بیوی کو یہودی قرار دیا۔ عمران خان کے سکینڈل بنا کر ہر جگہ تشہیر کروائی۔
لنڈے کے دانشوروں کو عمران خان کی طرف سے ڈینگی برادران اور ڈیزل کہنا یاد ہے، لیکن یہ بھول گئے کہ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کا لقب فضل الرحمان اپنے جلسوں میں تسلسل سے استعمال کر رہا ہے۔ ن لیگ نے جمائما کی کردار کشی 96 کے الیکشن سے شروع کررکھی تھی۔ جبکہ خود جدہ ہو یا لاہور اسلام آباد ہر جگہ پسند کی شادی شدہ عورتوں کو طلاقیں دلوا کر شادیاں کیں پھر ضرورت پوری ہونے پر چھوڑ دیا۔ اس کے برعکس عمران خان نے کبھی شریف فیملی یا دوسرے مخالفین کی عورتوں کے متعلق کبھی کچھ نہیں کہا۔
نواز شریف خاندان نے سیاستدانوں کو اغوا کرنے ، یرغمال بنانے ، خریدنے اور لوٹا کریسی کی چھانگا مانگا سیاست سے بنیاد ہے۔ کوٹلیہ چانکیہ کے گھٹیا اصولوں پر عمل کرتے ہوئے پاکستانی سیاست میں نفرت ، تضحیک ، مخالفین کو گالی ، برے القاب اور عورتوں کو گالیاں اور جھوٹے سکینڈل بنانا نواز شریف کی ایجاد ہے۔ نوجوان نسل موجودہ پاکستانی سیاست میں اخلاقی گندگی کو دیکھتی ہے مگر اسے کون کیسے لیکر آیا اس بارے نہیں جانتی۔ آج اگر سب سیاستدان کم یا زیادہ اس گندگی میں لتھڑے نظر آتے ہیں تو اس کا موجد و بانی اخلاق کے اعلی درجے پر فائز نواز شریف خاندان ہی ہیں۔
ویسے بھی پاکستانی معاشرے میں اگر دو مرد ایک دوسرے کو گالیاں بھی دے دیں تو اس کو اتنا برا نہیں سمجھا جاتا لیکن اگر ایک مرد کسی عورت کے ساتھ بدتمیزی کرے تو معاشرہ اسے اچھا نہیں سمجھتا۔ اور سیاست میں اس کی بنیاد نواز شریف کے بااخلاق وزیروں نے رکھی ہے۔ ماروی میمن کی پریس کانفرنس کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے جس میں وہ ن لیگ کو عورتوں کی شلواریں اتارنے والی پارٹی بتا رہی تھی۔ دور کیا جانا خود نواز شریف شہباز شریف حمزہ شہباز حسین نواز نے کیسے شرمناک سیکنڈل چھوڑے ہیں کیا عمران خان یا اس کے لیڈران نے کبھی مخالف عورتوں پر سیاست کی ہے۔
نوجوان سیاسی ورکروں کو مشورہ ہے کہ موجودہ سیاسی انتشار ، نفرت انگیز روئیے اور عورتوں پر بیان بازی کو سمجھنا ہے تو 1987 سے 1999 تک کے سرکردہ پاکستانی سیاسی لیڈروں کی طرز سیاست کو پڑھیں۔ کتابیں پڑھیں اور نہیں تو 1985, 1988 , 1990 , 1993 , 1996 کے الیکشن سے ایک دو ماہ پہلے تک کے اخبارات کا مطالعہ کریں۔ آپ کو آج کے مہذب اور اخلاق سے بھرپور سیاستدانوں کے گھناؤنے چہروں سے گھن آئے گی۔ سب کچھ نیٹ پر دستیاب ہے۔

No comments:
Post a Comment